بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||
چوتھی اور آخری قسط:
امریکی بیڑے کو درپیش کثیر جہتی معمہ
آپٹیکل [بصری] میزائلوں کی طاقت اس وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ ریڈار، اینٹی ریڈار، کروز میزائلوں اور ڈرونوں کے ساتھ مل کر، کاروائی میں شامل ہوں۔ ایسے حملے میں امریکی بحری جہاز کو ایسے خطرات کا سامنا ہوتا ہے جو ہدف تلاش کرنے کے لئے مختلف راستے اور طریقے استعمال کرتے ہیں۔
ریڈار بند کرنا جہاز کو آپٹیکل سینسر سے نہیں چھپا سکتا، GPS میں ہیراپھیری سیٹلائٹ گائیڈنس سے بے نیاز میزائل کو نہیں روک سکتی اور ایک حملے کے راستے پر توجہ مرکوز کرنا، دوسرے راستوں سے آنے والے خطرات سے نمٹنے کے عمل کو دشوار بنادیتا ہے۔
اس طرح ایران کا 'حملہ آور نیٹ ورک' بحری جہاز کے دفاعی نظام کو ایک کثیر جہتی معمے میں ڈال دیتا ہے، جہاں ایک خطرے سے نمٹنے پر ارتکاز، دوسرے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت کم کر دیتا ہے۔

تسدید [ڈیٹرنس] سے بڑھ کر طاقت کے اثبات تک
300 کلومیٹر تک مار کرنے والے 'خلیج فارس' میزائل سے لے کر 700 کلومیٹر تک مار کرنے والے 'ذوالفقار بصیر' میزائل اور پھر کم از کم 1200 کلومیٹر تک مار کرنے والے 'قاسم بصیر' میزائل تک کی، ایران کی میزائل صلاحیت کی ترقی کے سفر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سفر کے دوران میزائل کی رینج اور درست نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ، اس کی خودمختار گائیڈنس کو ترقی دی گئی ہے۔
حالیہ کارروائی سے بھی ثابت ہؤا کہ ایران ساز و سامان کی نمائش اور اپنی صلاحیتوں کے بارے میں انتباہ کے مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے اور بحری اہداف ک "کی شناخت اور تہدف (Detect & Target)" تک کا عمل میدان میں استعمال کر چکا ہے۔
نئے فارمولے کی رو سے، امریکی بحری جہاز نہ خلیج فارس کے محدود میدان میں، نہ آبنائے ہرمز سے گذرتے وقت اور نہ بحیرہ عمان تک پسپائی اختیار کر کے محض دوری اختیار کرنے، ریڈار کی بندش، الیکٹرانک جنگ اور کثیر پرتوں پر مشتمل دفاع کی مدد سے، ایران کی زد سے نہيں بچ سکتے۔
"آپٹیکل میزائل"، "ایران کا مسلط جغرافیہ" اور "شناخت اور فائرنگ کا مربوط نیٹ ورک"اس ملک کے دفاعی مثلث کے وہ تین اضلاع (1) ہیں جنہوں نے ایران کے آس پاس کے پانیوں میں امریکی فوجی موجودگی اور سرگرمی کو ایک تزویراتی بالادستی سے۔ ایک مہنگا اور پُرخَطَر مشن بنا رکھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ ضلع جس کی جمع اضلاع ہے، کسی ہندسی شکل کے اطراف یا پہلو جیسے مستطیل کے اضلاع، (sides of a rectangle)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی طلوع وند
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ